اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر علی لاریجانی نے ترکی کے شہر استنبول میں دسویں اسلامی بین پارلیمانی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں فرانسیسی میگزين کی جانب سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مغرب کے لیے ایک رسوائی ہے کہ جسے وہ آزادی بیان قرار دے رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ مغرب پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کر کے اسلامی برادری کے غصے اور ناراضگی کا راستہ ہموار کر رہا ہے اور جب نامعلوم افراد دہشت گردانہ اقدامات انجام دیتے ہیں تو مغربی میڈیا اسلامو فوبیا کا پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے مشرق وسطی کے علاقے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کے بارے میں کہا ہم جانتے ہیں کہ بہت سے دہشت گردانہ اقدامات کے پیچھے علاقے میں بعض مغربی کی خفیہ ایجنسیوں اور بعض دیگر ممالک کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ داعش کے پاس جو اسلحہ ہے وہ آسمان سے نہیں آیا ہے، مزید کہا کہ امریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ دہشت گردی کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔
ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ داعش مخالف چالیس ملکوں کے اتحاد نے دہشت گردی کامقابلہ کرنےکے لئے کوئي کام انجام نہیں دیا اور اب یہ مسئلہ ان کے لئے ذلت ورسوائی کا مسئلہ بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ اس مسئلے سے سب سے زیادہ اسرائیل فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نےجنوبی شام کے علاقے میں صہیونی حکومت کے حالیہ حملے اور حزب ا للہ کے جوانوں کی شہادت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شام میں اسرائیل کے دہشت گردانہ حملے سے ثابت ہوجاتا ہے کہ صہیونی حکومت علاقے میں ایک دہشت گرد حکومت ہے انہوں نے کہا کہ اب یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ دہشت گردی اور صیہونیت ایک ہی سکے کے دورخ ہيں ۔ ڈاکٹر لاریجانی نے یمن کے حالات کے بارے میں ایران کے موقف کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران نے ہمیشہ جمہوریت کی حمایت کی ہے اور ایران نے یہ کام اس سے پہلے مصر میں حسنی مبارک کی مخالفت اور عوام کی حمایت کی صورت میں اور تیونس میں بھی انجام دیا ہے انہوں نے کہا کہ ایران کی پالیسی علاقے میں جمہوریت کی حمایت پرمبنی رہی ہے اور ہم نے ہمیشہ عراق پر غاصبانہ قبضے کی مخالفت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ البتہ ہم نے اس کام میں مدد دی کہ عراق اور افغانستان میں جمہوریت قائم ہو۔ ڈاکٹرلاریجانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ترکی کے حکام بھی داعش کو ایک دہشت گرد گروہ سمجھتے ہيں اور اسے پورے خطے کے لئے خطرناک قراردیتے ہيں ۔ اسلامی ملکوں کی پارلیمانوں کا دسواں اجلاس جمعرات کی شام استنبول میں ایک بیان جاری کرکے ختم ہوگیا.
.......
/169